
ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو نئی صورت دے دی ہے، اور اس کے ساتھ ایسے مالی و معاشی معاملات بھی سامنے آرہے ہیں جن کے احکام کی تعیین کے لیے گہری فقہی بصیرت، عصری واقفیت اور اجتماعی غوروفکر ناگزیر ہے۔دنیا کی تیزی سے بدلتی معاشی تصویر میںاب اثاثوں کی تعریف، ملکیت کے طریقے اور لین دین کی صورتیں اب صرف کاغذ، نقدی اور روایتی بینکنگ تک محدود نہیں رہیں؛ بہت کچھ اسکرین پر منتقل ہوچکا ہے۔ ڈیجیٹل اثاثے اسی بدلتی ہوئی معاشی دنیا کی ایک نئی حقیقت ہیں، جنہوں نے فقہِ اسلامی کے سامنے ملکیت، خرید وفروخت، سرمایہ کاری، مالی منفعت اور دیگر متعدد شرعی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔انہی نئے سوالات کو علمی و فقہی سطح پر سمجھنے اور ان کے شرعی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے مجلسِ فقہی تلنگانہ وآندھرا اپنا اٹھارہواں ایک روزہ فقہی اجلاس 26 نومبر 2026 بروز جمعرات گیلاکسی فارم ہاؤز، بینک اسٹریٹ، کرنول میں منعقد کرے گی۔ پانچ سال قبل جدید مسائل کے حل، فقہی تحقیق کے فروغ اور اہلِ علم کے درمیان علمی و تحقیقی مکالمے کو مضبوط بنانے کے مقصد سے قائم ہونے والی مجلسِ فقہی نے اپنے مختصر سفر میں نمایاں علمی پیش رفت کی ہے۔ اب تک 17 کامیاب فقہی اجلاس منعقد ہوچکے ہیں، جن میں16 اہم اور عصرِ حاضر سے متعلق موضوعات** پر مفتیانِ کرام اور اہلِ علم کی تحقیقات پیش کی گئیں، جبکہ129 جدید مسائل پر غور کرکے ان کے فقہی فیصلے کیے گئے۔
مجلس کا یہ سفر محض اجلاسوں کی ایک فہرست نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں شریعت کی رہنمائی کو نئے مسائل تک مؤثر انداز میں پہنچانے کی ایک مسلسل علمی کوشش ہے۔ ہر نئے اجلاس کے ساتھ ایسے مسائل کو مرکزِ گفتگو بنایا جاتا ہے جو معاشرے میں عملاً جگہ بناچکے ہیں یا مستقبل قریب میں انسانی معاملات پر گہرے اثرات مرتب کرنے والے ہیں۔
اسی سلسلے کی اگلی کڑی ’’ڈیجیٹل اثاثے‘‘کے عنوان سے ہونے والا اٹھارہواں اجلاس ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی، ورچوئل اثاثوں، آن لائن مالی معاملات اور ان سے متعلق ملکیت، لین دین، سرمایہ کاری اور دیگر شرعی پہلوؤں نے فقہِ اسلامی کے سامنے کئی نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ اجلاس میں ان مسائل کا فقہی اصولوں اور عصری حقائق کی روشنی میں جائزہ لیا جائے گا اور اہلِ علم و تحقیق باہمی مذاکرے کے ذریعے ان کے شرعی پہلوؤں کو واضح کیا جائے گا۔